دل تو کرتا ہے مگر قوم کے ہاتھ خالی نہیں ۔ایک ہاتھ میں گیس تو دوسرے میں بجلی کے بل ہیں۔ سر پر تیرہ ہزار تنخواہ خرچ ہو جانے کی فکر سوار ہے۔ یہ کام اشرافیہ کو خود ہی کرنا پڑے گا
1 year ago
0
0
0
0
دل تو کرتا ہے مگر قوم کے ہاتھ خالی نہیں ۔ایک ہاتھ میں گیس تو دوسرے میں بجلی کے بل ہیں۔ سر پر تیرہ ہزار تنخواہ خرچ ہو جانے کی فکر سوار ہے۔ یہ کام اشرافیہ کو خود ہی کرنا پڑے گا
ناممکن ۔پنشن کی رقم عام آدمی کی جیب میں جاتی ہے کرپشن کی رقم اشرافیہ کے پیٹ میں۔۔ اس لئے کوئی اور بات کرو
صرف ضم شدہ علاقے نہیں ۔settled ares میں بھی حکومتی رٹ نہیں ہے
اب چھوٹے سکیل والوں کی تنخواہیں رہ گئی ہیں انہیں بھی کم کر ہی دیں ۔کیونکہ اشرافیہ کے بہت سے بیچاروں کے پاس ڈھنگ کے ذاتی طیارے ہی نہیں ہیں فورچونر سے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا ناں
کتنی گھاس کھا لے گا یہ ننھی جان۔