Advertisement · 728 × 90

Posts by Muzzamil Hussain

وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
بس کوئی دم میں مرنے والے تھے

تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے

وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے

صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنورے سنورنے والے تھے

یوں تو مرنا ہے ایک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے

جون ایلیا

1 month ago 1 0 0 0

اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے

آج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے

2 months ago 0 0 0 0

طنز پیرایۂ تبسم میں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے

ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے

وار کرنے کو جاں نثار آئیں
یہ تو ایثار ہے عنایت ہے

گرم جوشی اور اس قدر کیا بات
کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے

2 months ago 0 0 1 0

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے

انجمن میں یہ میری خاموشی
بردباری نہیں ہے وحشت ہے

تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ
جب تلک ہے بسا غنیمت ہے

خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے

لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
یاں مرا غم ہی میری فرصت ہے

جون ایلیا

2 months ago 0 0 1 0

اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا

یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا

آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن بت گری کو بھول گیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا

اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا

2 months ago 0 0 0 0

سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا

سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا

ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپنی کم فرصتی کو بھول گیا

بستیو اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا

2 months ago 0 0 0 1

کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں ہر کسی کو بھول گیا

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غم زندگی کو بھول گیا

خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا

کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا

2 months ago 0 0 0 1

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی اجنبی کو بھول گیا

صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا

عہد وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا

سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا

2 months ago 0 0 0 1
Advertisement

بہت عمدہ

4 months ago 2 0 1 0

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

منیر نیازی

4 months ago 1 0 0 0

نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض

4 months ago 1 0 0 0

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

4 months ago 1 0 0 1

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
بہادر شاہ ظفر

5 months ago 0 0 0 0

جو لوگ اپنے دل کی نہیں سنتے انہیں کبھی بھی اپنی اس عادت کو نہیں بدلنا چاہیے۔
جیسے ہیں ویسے ہی رہیں کیوں خوا مخواہ اپنے لئے عذیت کا سامان کرتے ہیں دل کی سن کر

5 months ago 0 0 0 0

نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض

6 months ago 0 0 0 0

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

6 months ago 0 0 0 1

یہ خاکِ گُمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی

تمہاری اُنگلیوں پہ ہم شمار کیسے ہو گئے


یہ عُمر تو کسی عجیب واقعے کی عُمر تھی

یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے

‏محمد فیضی

6 months ago 0 0 0 0

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو

یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل
ظرف کا کام ہے

جگر مراد آبادی

7 months ago 0 0 0 0
Advertisement

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال

جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

7 months ago 0 0 0 0

کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لئے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو

7 months ago 0 0 0 0

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

7 months ago 0 0 0 1

میں اپنے ہی من کا حوصلہ ہوں

8 months ago 0 0 0 0

A wise man once said nothing

9 months ago 0 0 0 0

ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

9 months ago 0 0 0 0

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کےسوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا

9 months ago 0 0 0 1

کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پر یاد آتی ہے

جون ایلیاء

9 months ago 0 0 0 0

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو

جون ایلیا

9 months ago 0 0 0 0
Advertisement

کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

9 months ago 0 0 0 1
Video

‏یہ چاہت فتح ایسے عجیب و غریب گانے کیوں بناتا ہے ؟
‏جواب :

11 months ago 0 0 0 0
Login • Instagram Welcome back to Instagram. Sign in to check out what your friends, family & interests have been capturing & sharing around the world.

The different stages of grief
www.instagram.com/reel/DJPaBaC...

11 months ago 0 0 0 0