وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
بس کوئی دم میں مرنے والے تھے
تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے
وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے
صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنورے سنورنے والے تھے
یوں تو مرنا ہے ایک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے
جون ایلیا
Posts by Muzzamil Hussain
اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
آج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے
طنز پیرایۂ تبسم میں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
وار کرنے کو جاں نثار آئیں
یہ تو ایثار ہے عنایت ہے
گرم جوشی اور اس قدر کیا بات
کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
انجمن میں یہ میری خاموشی
بردباری نہیں ہے وحشت ہے
تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ
جب تلک ہے بسا غنیمت ہے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
یاں مرا غم ہی میری فرصت ہے
جون ایلیا
اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا
یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن بت گری کو بھول گیا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا
اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا
سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا
سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا
ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپنی کم فرصتی کو بھول گیا
بستیو اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں ہر کسی کو بھول گیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا
قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غم زندگی کو بھول گیا
خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا
کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی اجنبی کو بھول گیا
صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا
عہد وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا
بہت عمدہ
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
منیر نیازی
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
فیض احمد فیض
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
بہادر شاہ ظفر
جو لوگ اپنے دل کی نہیں سنتے انہیں کبھی بھی اپنی اس عادت کو نہیں بدلنا چاہیے۔
جیسے ہیں ویسے ہی رہیں کیوں خوا مخواہ اپنے لئے عذیت کا سامان کرتے ہیں دل کی سن کر
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
فیض احمد فیض
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
یہ خاکِ گُمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی
تمہاری اُنگلیوں پہ ہم شمار کیسے ہو گئے
یہ عُمر تو کسی عجیب واقعے کی عُمر تھی
یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے
محمد فیضی
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل
ظرف کا کام ہے
جگر مراد آبادی
اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
کس لئے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
میں اپنے ہی من کا حوصلہ ہوں
A wise man once said nothing
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کےسوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
جون ایلیا
کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پر یاد آتی ہے
جون ایلیاء
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
جون ایلیا
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
یہ چاہت فتح ایسے عجیب و غریب گانے کیوں بناتا ہے ؟
جواب :